قومی کرکٹ ٹیم کے اہم کھلاڑی کو کھڈے لائن لگانے کا منصوبہ
کراچی: سابق قومی کپتان اور اپنے دور کے بہترین وکٹ کیپر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ملک میں محمد عامر کے متبادل بہترین باﺅلرز کی کوئی کمی نہیں جن کو قومی ٹیم میں منتخب ہی نہیں کرنا چاہئے تھا۔
خبر پڑھیں: انڈین پریمیئر لیگ میں ایک اور انوکھا کارنامہ ، دنیا مذاق اُرانے لگی
انہوں نے بائیں ہاتھ کے پیسر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب پہلے جیسے قاتلانہ باﺅلر نہیں رہے اور ان کی حالیہ کارکردگی معیار سے کہیں کمتر ہے جس کی وجہ سے وہ چیمپئنز ٹرافی2017 کے بعد اپنی بہترین فارم میں نظر نہیں آسکے۔راشد لطیف کا کہنا تھا کہ 26 سالہ فاسٹ باﺅلر کی بال سوئنگ کرنے کی اہلیت ناپید ہو چکی جو ان کے انٹرنیشنل کرکٹ میں زوال کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے لہٰذا انہیں جنوبی افریقہ کے دورے پر ٹیم میں منتخب ہی نہیں کرنا چاہئے تھا جہاں وہ بطور باﺅلر بری طرح فلاپ ہو گئے۔
خبر پڑھیں: ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل 20کھلاڑیوں کے نام سامنے آگئے
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ملک میں لاتعداد ایسے نوجوان فاسٹ باﺅلرموجود ہیں جو جدوجہد میں مبتلا محمد عامر کا بہترین متبادل ثابت ہو سکتے ہیں اور اگر بائیں ہاتھ کے پیسر نے جلد ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں محنت کرکے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش نہ کی تو ان کی گیندوں سے سوئنگ کے بعد رفتار بھی ختم ہو جائے گی۔انہوں نے مشورہ دیا کہ نوجوان پیسر کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں جا کر اپنے پیس اور سوئنگ پر کام کرنا چاہئے کیونکہ انہیں اس کی اشد ضرورت ہے اور اگر وہ اس بارے میں غور نہیں کرتے تو پھر پاکستان میں ایسے باﺅلرز کی کمی نہیں جو ان کی جگہ باآسانی سنبھال سکتے ہیں۔
خبر پڑھیں: انڈین پریمیئر لیگ میں ایک اور انوکھا کارنامہ ، دنیا مذاق اُرانے لگی
انہوں نے بائیں ہاتھ کے پیسر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب پہلے جیسے قاتلانہ باﺅلر نہیں رہے اور ان کی حالیہ کارکردگی معیار سے کہیں کمتر ہے جس کی وجہ سے وہ چیمپئنز ٹرافی2017 کے بعد اپنی بہترین فارم میں نظر نہیں آسکے۔راشد لطیف کا کہنا تھا کہ 26 سالہ فاسٹ باﺅلر کی بال سوئنگ کرنے کی اہلیت ناپید ہو چکی جو ان کے انٹرنیشنل کرکٹ میں زوال کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے لہٰذا انہیں جنوبی افریقہ کے دورے پر ٹیم میں منتخب ہی نہیں کرنا چاہئے تھا جہاں وہ بطور باﺅلر بری طرح فلاپ ہو گئے۔
خبر پڑھیں: ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل 20کھلاڑیوں کے نام سامنے آگئے
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ملک میں لاتعداد ایسے نوجوان فاسٹ باﺅلرموجود ہیں جو جدوجہد میں مبتلا محمد عامر کا بہترین متبادل ثابت ہو سکتے ہیں اور اگر بائیں ہاتھ کے پیسر نے جلد ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں محنت کرکے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش نہ کی تو ان کی گیندوں سے سوئنگ کے بعد رفتار بھی ختم ہو جائے گی۔انہوں نے مشورہ دیا کہ نوجوان پیسر کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں جا کر اپنے پیس اور سوئنگ پر کام کرنا چاہئے کیونکہ انہیں اس کی اشد ضرورت ہے اور اگر وہ اس بارے میں غور نہیں کرتے تو پھر پاکستان میں ایسے باﺅلرز کی کمی نہیں جو ان کی جگہ باآسانی سنبھال سکتے ہیں۔

Comments
Post a Comment