وزیراعظم کے ریمارکس پر افغانستان نے آپنا سفیر واپس بلا لیا

وزیر اعظم کا کابل کو نگراں حکومت تشکیل دینے کی تجویز کو افغانستان نے ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکسپریس ٹربیون میں شائع ہونے والے وزیر اعظم عمران خان کے ریمارکس میں کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ وزیر اعظم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں نگراں حکومت کے قیام سے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات میں مزید بہتری آئے گی کیونکہ طالبان نے موجودہ حکومت سے بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: متنازع بیان پر افغان مشیر کے امریکا میں داخلے پر پابندی کا امکان
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افغان حکومت امن مرحلے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور اس بات پر زور دے رہی ہے کہ طالبان کو ان سے بات کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے افغان حکومت کے اعتراضات کے پیش نظر طالبان رہنماؤں سے طے شدہ ملاقات منسوخ کردی ہے۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان سبغط اللہ احمدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے پاکستان کے ڈپٹی سفیر کو وزیر اعظم کے ’غیر ذمہ دارانہ‘ ریمارکس پر بحث کے لیے واپس طلب کرلیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے بیان سے پاکستان کی مداخلتی پالیسی ثابت ہوتی ہے اور یہ افغانستان کی خودمختاری پر حملہ ہے‘۔
افغان سفارتخانے کی جانب سے جاری ہونے والے بیانیے سے اس پیش رفت کی تصدیق ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں سیاسی بھونچال،2سیکیورٹی حکام،وزیرداخلہ و دفاع مستعفی
واضح رہے کہ رواں ماہ یہ تیسری مرتبہ کابل نے پاکستان سے امن مذاکرات پر اظہار خیال پر جواب طلب کیا جس کی وجہ سے پڑوسی ممالک میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔
امریکا اور طالبان حکومت میں 17 سال تک جاری جنگ کے بعد مذاکرات ہورہے ہیں تاہم طالبان نے اشرف غنی کی قیادت میں افغان حکومت کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
اشرف غنی کی حکومت کی مدت مئی میں ختم ہورہی ہے اور ان پر اگلے صدارتی انتخابات سے قبل عہدہ چھوڑنے کا دباؤ ہے۔ اشرف غنی نے نگراں حکومت کے مطالبات کو مسترد کردیا ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات 28 ستمبر کو متوقع ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

لہسن یعنی تھوم کے حیران کن فائدے

کرکرے آلو گھر بنانے کا آسان طریقہ کار